ابنا: صدر بش کے دور میں 45ڈرون حملے ہوئے، جبکہ اوبامہ حکومت کے پہلے ہی سال یہ تعداد 55ہوگئی۔ جو بڑھتے بڑھتے 330تک جا پہنچی ہے۔ جن میں تقریباً 3300 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور ان میں عسکریت پسندوں کی تعداد اڑھائی سو سے زائد نہیں۔ جبکہ عام شہریوں کی تعداد دو ہزار 5سو 24ہے ۔ جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد 646ہے۔ ذمہ حکومتی ذرائع کے مطابق مذکورہ میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اپنے دورہ امریکہ کے دوران امریکہ حکومت کو باور کرائیں گے کہ یہ ڈرون حملے اقوام متحدہ کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔ جن کے نتیجے میں پورے ملک میں امریکہ مخالف جذبات فروغ پارہے ہیں۔ جبکہ امریکہ ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں دھنستا چلا جارہاہے۔ یہ سلسلہ ختم کئے بغیر علاقائی سطح پر علاقائی دہشت گردی کا خاتمہ مشکل ہے لہذا ہم ان حملوں کو برداشت نہیں کریں گے۔امریکی تحقیقاتی ادارے پیو نے بھی ڈرون حملوں کو سفاکانہ نسل کشی کے مترادف قرار دے دیا
امریکی ادارے پی ای ڈبلیو (پی ای ڈبلیو) نے بھی پاکستان میں جاری ڈرون حملو ں کے عمل کو سفاکانہ اور نسل کشی کے مترادف قرار دے دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ڈرون حملوں کے خلاف ردعمل صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ امریکہ کے دوست ممالک سمیت پوری دنیا میں ہے۔ ادارے نے اپنی تحقیقاتی روپورٹ میں بتایا کہ پاکستان میں 98فیصد، یونان میں 90فیصد، مصر میں 89فیصد، اردن میں 85فیصد، ترکی میں 81فیصد، سپین اور برازیل میں 76فیصد، جاپان میں 75فیصداور میکسیکو میں 73فیصد عوام ڈرون حملو ں کی مخالفت اور مذمت کرتے ہیں اور خود امریکہ کے اندر بھی ڈرون حملوں کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے اس پالیسی کو کانگریس میں چیلنج کیا گیاجس پر صدر اوبامہ نے پالیسی پر جزوی نظرثانی کا یقین دلا رکھا ہے۔
دوسری جانب حکومت پاکستان کے ذمہ دار ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے دورہ امریکہ سے قبل ایک خصوصی بریفنگ میں ناصرف پاکستان میں جاری ڈرون حملوں اور ان سے ہونے والے جانی نقصان کی تفصیل لی ہے بلکہ جن مقاصد کے لئے یہ عمل شروع کیا گیا تھااس میں امریکہ کو کس حد تک کامیابی ملی ، اس پر بھی بریفنگ لی۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ سلسلہ جنرل مشرف کے دور میں شروع کیا گیا تھا۔ صدر بش کے دور میں 45ڈرون حملے ہوئے، جبکہ اوبامہ حکومت کے پہلے ہی سال یہ تعداد 55ہوگئی۔ جو بڑھتے بڑھتے 330تک جا پہنچی ہے۔ جن میں تقریباً 3300 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور ان میں عسکریت پسندوں کی تعداد اڑھائی سو سے زائد نہیں۔ جبکہ عام شہریوں کی تعداد دو ہزار 5سو 24ہے ۔ جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد 646ہے۔ ذمہ حکومتی ذرائع کے مطابق مذکورہ میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اپنے دورہ امریکہ کے دوران امریکہ حکومت کو باور کرائیں گے کہ یہ ڈرون حملے اقوام متحدہ کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔ جن کے نتیجے میں پورے ملک میں امریکہ مخالف جذبات فروغ پارہے ہیں۔ جبکہ امریکہ ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں دھنستا چلا جارہاہے۔ یہ سلسلہ ختم کئے بغیر علاقائی سطح پر علاقائی دہشت گردی کا خاتمہ مشکل ہے لہذا ہم ان حملوں کو برداشت نہیں کریں گے۔
.......
/169